Jaun Elia

جون ایلیا


ٹاپ ٢٠ شاعری

آج بہت دن بعد میں اپنے کمرے تک آ نکلا تھا
جوں ہی دروازہ کھولا ہے اس کی خوشبو آئی ہے

غزل دیکھیے

اب جو رشتوں میں بندھا ہوں تو کھلا ہے مجھ پر
کب پرند اڑ نہیں پاتے ہیں پروں کے ہوتے


اب تو اس کے بارے میں تم جو چاہو وہ کہہ ڈالو
وہ انگڑائی میرے کمرے تک تو بڑی روحانی تھی

غزل دیکھیے

بہت نزدیک آتی جا رہی ہو
بچھڑنے کا ارادہ کر لیا کیا

غزل دیکھیے

حاصل کن ہے یہ جہان خراب
یہی ممکن تھا اتنی عجلت میں

غزل دیکھیے

حملہ ہے چار سو در و دیوار شہر کا
سب جنگلوں کو شہر کے اندر سمیٹ لو

غزل دیکھیے

ہر شخص سے بے نیاز ہو جا
پھر سب سے یہ کہہ کہ میں خدا ہوں

غزل دیکھیے

اک عجب آمد و شد ہے کہ نہ ماضی ہے نہ حال
جونؔ برپا کئی نسلوں کا سفر ہے مجھ میں

غزل دیکھیے

علاج یہ ہے کہ مجبور کر دیا جاؤں
وگرنہ یوں تو کسی کی نہیں سنی میں نے


جو گزاری نہ جا سکی ہم سے
ہم نے وہ زندگی گزاری ہے

غزل دیکھیے

کیسے کہیں کہ تجھ کو بھی ہم سے ہے واسطہ کوئی
تو نے تو ہم سے آج تک کوئی گلہ نہیں کیا

غزل دیکھیے

کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے

غزل دیکھیے

کتنی دل کش ہو تم کتنا دلجو ہوں میں
کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے

غزل دیکھیے

کیا کہا عشق جاودانی ہے!
آخری بار مل رہی ہو کیا

غزل دیکھیے

میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں


میری بانہوں میں بہکنے کی سزا بھی سن لے
اب بہت دیر میں آزاد کروں گا تجھ کو

غزل دیکھیے

ساری گلی سنسان پڑی تھی باد فنا کے پہرے میں
ہجر کے دالان اور آنگن میں بس اک سایہ زندہ تھا

غزل دیکھیے

اس گلی نے یہ سن کے صبر کیا
جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں

غزل دیکھیے

یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا

غزل دیکھیے

یہ وار کر گیا ہے پہلو سے کون مجھ پر
تھا میں ہی دائیں بائیں اور میں ہی درمیاں تھا

غزل دیکھیے


www.000webhost.com