Jaun Elia

جون ایلیا


قطعہ

اس کے اور اپنے درمیان میں اب


پاس رہ کر جدائی کی تجھ سے


پسینے سے مرے اب تو یہ رومال


تھی جو وہ اک تمثیل ماضی آخری منظر اس کا یہ تھا


جو حقیقت ہے اس حقیقت سے


جو رعنائی نگاہوں کے لیے فردوس جلوہ ہے


چارہ سازوں کی چارہ سازی سے


چاند کی پگھلی ہوئی چاندی میں


سال ہا سال اور اک لمحہ


سر میں تکمیل کا تھا اک سودا


شرم دہشت جھجھک پریشانی


عشق سمجھے تھے جس کو وہ شاید


کون سود و زیاں کی دنیا میں


کیا بتاؤں کہ سہ رہا ہوں میں


مری جب بھی نظر پڑتی ہے تجھ پر


میری عقل و ہوش کی سب حالتیں


میں نے ہر بار تجھ سے ملتے وقت


ہر طنز کیا جائے ہر اک طعنہ دیا جائے


ہے محبت حیات کی لذت


وہ کسی دن نہ آ سکے پر اسے


یہ تو بڑھتی ہی چلی جاتی ہے میعاد ستم


یہ تیرے خط تری خوشبو یہ تیرے خواب و خیال



www.000webhost.com