Jaun Elia

جون ایلیا

چاہے تم میری بینائی کھرچ ڈالو پھر بھی اپنے خواب نہیں چھوڑوں گا

ان کی لذت اور اذیت سے میں اپنا کوئی عہد نہیں توڑوں گا


تیز نظر نا بیناؤں کی آبادی میں

کیا میں اپنے دھیان کی یہ پونجی بھی گنوا دوں


ہاں میرے خوابوں کو تمہاری صبحوں کی سرد اور سایہ گوں تعبیروں سے نفرت ہے

ان صبحوں نے شام کے ہاتھوں اب تک جتنے سورج بیچے


وہ سب اک برفانی بھاپ کی چمکیلی اور چکر کھاتی گولائی تھے

سو میرے خوابوں کی راتیں جلتی اور دہکتی راتیں


ایسی یخ بستہ تعبیروں کے ہر دن سے اچھی ہیں اور سچی بھی ہیں

جس میں دھندلا چکر کھاتا چمکیلا پن چھ اطراف کا روگ بنا ہے


میرے اندھیرے بھی سچے ہیں

اور تمہارے ''روگ اجالے'' بھی جھوٹے ہیں


راتیں سچی ہیں دن جھوٹے

جب تک دن جھوٹے ہیں جب تک


راتیں سہنا اور اپنے خوابوں میں رہنا

خوابوں کو بہکانے والے دن کے اجالوں سے اچھا ہے


ہاں میں بہکاووں کی دھند نہیں اوڑھوں گا

چاہے تم میری بینائی کھرچ ڈالو میں پھر بھی اپنے خواب نہیں چھوڑوں گا


اپنا عہد نہیں توڑوں گا

یہی تو بس میرا سب کچھ ہے


ماہ و سال کے غارت گر سے میری ٹھنی ہے

میری جان پر آن بنی ہے


چاہے کچھ ہو میرے آخری سانس تلک اب چاہے کچھ ہو



www.000webhost.com