Jaun Elia

جون ایلیا

بساط زندگی تو ہر گھڑی بچھتی ہے اٹھتی ہے


یہاں پر جتنے خانے جتنے گھر ہیں


سارے


خوشیاں اور غم انعام کرتے ہیں


یہاں پر سارے مہرے


اپنی اپنی چال چلتے ہیں


کبھی محصور ہوتے ہیں کبھی آگے نکلتے ہیں


یہاں پر شہہ بھی پڑتی ہے


یہاں پر مات ہوتی ہے


کبھی اک چال ٹلتی ہے


کبھی بازی پلٹتی ہے


یہاں پر سارے مہرے اپنی اپنی چال چلتے ہیں


مگر میں وہ پیادہ ہوں


جو ہر گھر میں


کبھی اس شہہ سے پہلے اور کبھی اس مات سے پہلے


کبھی اک برد سے پہلے کبھی آفات سے پہلے


ہمیشہ قتل ہو جاتا ہے



www.000webhost.com