Jaun Elia

جون ایلیا

دھند چھائی ہوئی ہے جھیلوں پر

اڑ رہے ہیں پرند ٹیلوں پر

کا رخ ہے نشیمنوں کی طرف

بستیوں کی طرف بنوں کی طرف


اپنے گلوں کو لے کے چرواہے

سرحدی بستیوں میں جا پہنچے

دل ناکام میں کہاں جاؤں

اجنبی شام میں کہاں جاؤں



www.000webhost.com