Jaun Elia

جون ایلیا

یہ جو سنا اک دن وہ حویلی یکسر بے آثار گری

ہم جب بھی سائے میں بیٹھے دل پر اک دیوار گری


جوں ہی مڑ کر دیکھا میں نے بیچ اٹھی تھی اک دیوار

بس یوں سمجھو میرے اوپر بجلی سی اک بار گری


دھار پہ باڑ رکھی جائے اور ہم اس کے گھائل ٹھہریں

میں نے دیکھا اور نظروں سے ان پلکوں کی دھار گری


گرنے والی ان تعمیروں میں بھی ایک سلیقہ تھا

تم اینٹوں کی پوچھ رہے ہو مٹی تک ہموار گری


بے داری کے بستر پر میں ان کے خواب سجاتا ہوں

نیند بھی جن کی ٹاٹ کے اوپر خوابوں سے نادار گری


خوب ہی تھی وہ قوم شہیداں یعنی سب بے زخم و خراش

میں بھی اس صف میں تھا شامل وہ صف جو بے وار گری


ہر لمحہ گھمسان کا رن ہے کون اپنے اوسان میں ہے

کون ہے یہ؟ اچھا تو میں ہوں لاش تو ہاں اک یار گری



www.000webhost.com