Jaun Elia

جون ایلیا

یہ اکثر تلخ کامی سی رہی کیا

محبت زک اٹھا کر آئی تھی کیا


نہ کثدم ہیں نہ افعی ہیں نہ اژدر

ملیں گے شہر میں انسان ہی کیا


میں اب ہر شخص سے اکتا چکا ہوں

فقط کچھ دوست ہیں اور دوست بھی کیا


یہ ربط بے شکایت اور یہ میں

جو شے سینے میں تھی وہ بجھ گئی کیا


محبت میں ہمیں پاس انا تھا

بدن کی اشتہا صادق نہ تھی کیا


نہیں ہے اب مجھے تم پر بھروسا

تمہیں مجھ سے محبت ہو گئی کیا


جواب‌ بوسہ سچ انگڑائیاں سچ

تو پھر وہ بیوفائی جھوٹ تھی کیا


شکست اعتماد ذات کے وقت

قیامت آ رہی تھی آ گئی کیا



www.000webhost.com