Jaun Elia

جون ایلیا

یادوں کا حساب رکھ رہا ہوں

سینے میں عذاب رکھ رہا ہوں


تم کچھ کہے جاؤ کیا کہوں میں

بس دل میں جواب رکھ رہا ہوں


دامن میں کیے ہیں جمع گرداب

جیبوں میں حباب رکھ رہا ہوں


آئے گا وہ نخوتی سو میں بھی

کمرے کو خراب رکھ رہا ہوں


تم پر میں صحیفہ ہائے کہنہ

اک تازہ کتاب رکھ رہا ہوں



www.000webhost.com