Jaun Elia

جون ایلیا

یاد اسے انتہائی کرتے ہیں

سو ہم اس کی برائی کرتے ہیں


پسند آتا ہے دل سے یوسف کو

وہ جو یوسف کے بھائی کرتے ہیں


ہے بدن خواب وصل کا دنگل

آؤ زور آزمائی کرتے ہیں


اس کو اور غیر کو خبر ہی نہیں

ہم لگائی بجھائی کرتے ہیں


ہم عجب ہیں کہ اس کی بانہوں میں

شکوۂ نارسائی کرتے ہیں


حالت وصل میں بھی ہم دونوں

لمحہ لمحہ جدائی کرتے ہیں


آپ جو میری جاں ہیں میں دل ہوں

مجھ سے کیسے جدائی کرتے ہیں


با وفا ایک دوسرے سے میاں

ہر نفس بے وفائی کرتے ہیں


جو ہیں سرحد کے پار سے آئے

وہ بہت خود ستائی کرتے ہیں


پل قیامت کے سود خوار ہیں جونؔ

یہ ابد کی کمائی کرتے ہیں



www.000webhost.com