Jaun Elia

جون ایلیا

وہ کیا کچھ نہ کرنے والے تھے

بس کوئی دم میں مرنے والے تھے


تھے گلے اور گرد باد کی شام

اور ہم سب بکھرنے والے تھے


وہ جو آتا تو اس کی خوشبو میں

آج ہم رنگ بھرنے والے تھے


صرف افسوس ہے یہ طنز نہیں

تم نہ سنورے سنورنے والے تھے


یوں تو مرنا ہے ایک بار مگر

ہم کئی بار مرنے والے تھے



www.000webhost.com