Jaun Elia

جون ایلیا

وہ جو تھا وہ کبھی ملا ہی نہیں

سو گریباں کبھی سلا ہی نہیں


اس سے ہر دم معاملہ ہے مگر

درمیاں کوئی سلسلہ ہی نہیں


بے ملے ہی بچھڑ گئے ہم تو

سو گلے ہیں کوئی گلہ ہی نہیں


چشم میگوں سے ہے مغاں نے کہا

مست کر دے مگر پلا ہی نہیں


تو جو ہے جان تو جو ہے جاناں

تو ہمیں آج تک ملا ہی نہیں


مست ہوں میں مہک سے اس گل کی

جو کسی باغ میں کھلا ہی نہیں


ہائے جونؔ اس کا وہ پیالۂ ناف

جام ایسا کوئی ملا ہی نہیں


تو ہے اک عمر سے فغاں پیشہ

ابھی سینہ ترا چھلا ہی نہیں



www.000webhost.com