Jaun Elia

جون ایلیا

تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو

میں دل کسی سے لگا لوں اگر اجازت ہو


تمہارے بعد بھلا کیا ہیں وعدہ و پیماں

بس اپنا وقت گنوا لوں اگر اجازت ہو


تمہارے ہجر کی شب ہائے کار میں جاناں

کوئی چراغ جلا لوں اگر اجازت ہو


جنوں وہی ہے وہی میں مگر ہے شہر نیا

یہاں بھی شور مچا لوں اگر اجازت ہو


کسے ہے خواہش مرہم گری مگر پھر بھی

میں اپنے زخم دکھا لوں اگر اجازت ہو


تمہاری یاد میں جینے کی آرزو ہے ابھی

کچھ اپنا حال سنبھالوں اگر اجازت ہو



www.000webhost.com