Jaun Elia

جون ایلیا

تجھ سے گلے کروں تجھے جاناں مناؤں میں

اک بار اپنے آپ میں آؤں تو آؤں میں


دل سے ستم کی بے سر و کاری ہوا کو ہے

وہ گرد اڑ رہی ہے کہ خود کو گنواؤں میں


وہ نام ہوں کہ جس پہ ندامت بھی اب نہیں

وہ کام ہیں کہ اپنی جدائی کماؤں میں


کیوں کر ہو اپنے خواب کی آنکھوں میں واپسی

کس طور اپنے دل کے زمانوں میں جاؤں میں


اک رنگ سی کمان ہو خوشبو سا ایک تیر

مرہم سی واردات ہو اور زخم کھاؤں میں


شکوہ سا اک دریچہ ہو نشہ سا اک سکوت

ہو شام اک شراب سی اور لڑکھڑاؤں میں


پھر اس گلی سے اپنا گزر چاہتا ہے دل

اب اس گلی کو کون سی بستی سے لاؤں میں



www.000webhost.com