Jaun Elia

جون ایلیا

ٹھیک ہے خود کو ہم بدلتے ہیں

شکریہ مشورت کا چلتے ہیں


ہو رہا ہوں میں کس طرح برباد

دیکھنے والے ہاتھ ملتے ہیں


ہے وہ جان اب ہر ایک محفل کی

ہم بھی اب گھر سے کم نکلتے ہیں


کیا تکلف کریں یہ کہنے میں

جو بھی خوش ہے ہم اس سے جلتے ہیں


ہے اسے دور کا سفر در پیش

ہم سنبھالے نہیں سنبھلتے ہیں


تم بنو رنگ تم بنو خوشبو

ہم تو اپنے سخن میں ڈھلتے ہیں


میں اسی طرح تو بہلتا ہوں

اور سب جس طرح بہلتے ہیں


ہے عجب فیصلے کا صحرا بھی

چل نہ پڑیے تو پاؤں جلتے ہیں



www.000webhost.com