Jaun Elia

جون ایلیا

تنگ آغوش میں آباد کروں گا تجھ کو

ہوں بہت شاد کہ ناشاد کروں گا تجھ کو


فکر ایجاد میں گم ہوں مجھے غافل نہ سمجھ

اپنے انداز پر ایجاد کروں گا تجھ کو


نشہ ہے راہ کی دوری کا کہ ہم راہ ہے تو

جانے کس شہر میں آباد کروں گا تجھ کو


میری بانہوں میں بہکنے کی سزا بھی سن لے

اب بہت دیر میں آزاد کروں گا تجھ کو


میں کہ رہتا ہوں بصد ناز گریزاں تجھ سے

تو نہ ہوگا تو بہت یاد کروں گا تجھ کو



www.000webhost.com