Jaun Elia

جون ایلیا

سلسلہ جنباں اک تنہا سے روح کسی تنہا کی تھی

ایک آواز ابھی آئی تھی وہ آواز ہوا کی تھی


بے دنیائی نے اس دل کی اور بھی دنیا دار کیا

دل پر ایسی ٹوٹی دنیا ترک ذرا دنیا کی تھی


اپنے اندر ہنستا ہوں میں اور بہت شرماتا ہوں

خون بھی تھوکا سچ مچ تھوکا اور یہ سب چالاکی تھی


اپنے آپ سے جب میں گیا ہوں تب کی روایت سنتا ہوں

آ کر کتنے دن تک اس کی یاد مجھے پوچھا کی تھی


ہوں سودائی سودائی سا جب سے میں نے جانا ہے

طے وہ راہ سر سودائی میں نے بے سودا کی تھی


گرد تھی بیگانہ گردی کی جو تھی نگہ میری تاہم

جب بھی کوئی صورت بچھڑی آنکھوں میں نم ناکی تھی


ہے یہ قصہ کتنا اچھا پر میں اچھا سمجھوں تو

ایک تھا کوئی جس نے یک دم یہ دنیا پیدا کی تھی



www.000webhost.com