Jaun Elia

جون ایلیا

شوق کا بار اتار آیا ہوں

آج میں اس کو ہار آیا ہوں


اف مرا آج میکدے آنا

یوں تو میں کتنی بار آیا ہوں


دوستو دوست کو سنبھالا دو

دور سے پا فگار آیا ہوں


صف آخر سے لڑ رہا تھا میں

اور یہاں لاش وار آیا ہوں


وہی دشت عذاب مایوسی

وہیں انجام کار آیا ہوں



www.000webhost.com