Jaun Elia

جون ایلیا

شوق کا رنگ بجھ گیا یاد کے زخم بھر گئے

کیا مری فصل ہو چکی کیا مرے دن گزر گئے


رہ گزر خیال میں دوش بدوش تھے جو لوگ

وقت کی گرد باد میں جانے کہاں بکھر گئے


شام ہے کتنی بے تپاک شہر ہے کتنا سہم ناک

ہم نفسو! کہاں ہو تم جانے یہ سب کدھر گئے!


پاس حیات کا خیال ہم کو بہت برا لگا

پس بہ ہجوم معرکہ جان کے بے سپر گئے


میں تو صفوں کے درمیاں کب سے پڑا ہوں نیم جاں

میرے تمام جاں نثار میرے لیے تو مر گئے



www.000webhost.com