Jaun Elia

جون ایلیا

شرمندگی ہے ہم کو بہت ہم ملے تمہیں

تم سر بہ سر خوشی تھے مگر غم ملے تمہیں


میں اپنے آپ میں نہ ملا اس کا غم نہیں

غم تو یہ ہے کہ تم بھی بہت کم ملے تمہیں


ہے جو ہمارا ایک حساب اس حساب سے

آتی ہے ہم کو شرم کہ پیہم ملے تمہیں


تم کو جہان شوق و تمنا میں کیا ملا

ہم بھی ملے تو درہم و برہم ملے تمہیں


اب اپنے طور ہی میں نہیں تم سو کاش کہ

خود میں خود اپنا طور کوئی دم ملے تمہیں


اس شہر حیلہ جو میں جو محرم ملے مجھے

فریاد جان جاں وہی محرم ملے تمہیں


دیتا ہوں تم کو خشکئ مژگاں کی میں دعا

مطلب یہ ہے کہ دامن پر نم ملے تمہیں


میں ان میں آج تک کبھی پایا نہیں گیا

جاناں جو میرے شوق کے عالم ملے تمہیں


تم نے ہمارے دل میں بہت دن سفر کیا

شرمندہ ہیں کہ اس میں بہت خم ملے تمہیں


یوں ہو کہ اور ہی کوئی حوا ملے مجھے

ہو یوں کہ اور ہی کوئی آدم ملے تمہیں



www.000webhost.com