Jaun Elia

جون ایلیا

سینہ دہک رہا ہو تو کیا چپ رہے کوئی

کیوں چیخ چیخ کر نہ گلا چھیل لے کوئی


ثابت ہوا سکون دل و جاں کہیں نہیں

رشتوں میں ڈھونڈھتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی


ترک تعلقات کوئی مسئلہ نہیں

یہ تو وہ راستہ ہے کہ بس چل پڑے کوئی


دیوار جانتا تھا جسے میں وہ دھول تھی

اب مجھ کو اعتماد کی دعوت نہ دے کوئی


میں خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب

میرے خلاف زہر اگلتا پھرے کوئی


اے شخص اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے

یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی


ہاں ٹھیک ہے میں اپنی انا کا مریض ہوں

آخر مرے مزاج میں کیوں دخل دے کوئی


اک شخص کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر

کاش اس زباں دراز کا منہ نوچ لے کوئی



www.000webhost.com