Jaun Elia

جون ایلیا

سارے رشتے تباہ کر آیا

دل برباد اپنے گھر آیا


آخرش خون تھوکنے سے میاں

بات میں تیری کیا اثر آیا


تھا خبر میں زیاں دل و جاں کا

ہر طرف سے میں بے خبر آیا


اب یہاں ہوش میں کبھی اپنے

نہیں آؤں گا میں اگر آیا


میں رہا عمر بھر جدا خود سے

یاد میں خود کو عمر بھر آیا


وہ جو دل نام کا تھا ایک نفر

آج میں اس سے بھی مکر آیا


مدتوں بعد گھر گیا تھا میں

جاتے ہی میں وہاں سے ڈر آیا



www.000webhost.com