Jaun Elia

جون ایلیا

سر ہی اب پھوڑیے ندامت میں

نیند آنے لگی ہے فرقت میں


ہیں دلیلیں ترے خلاف مگر

سوچتا ہوں تری حمایت میں


روح نے عشق کا فریب دیا

جسم کو جسم کی عداوت میں


اب فقط عادتوں کی ورزش ہے

روح شامل نہیں شکایت میں


عشق کو درمیاں نہ لاؤ کہ میں

چیختا ہوں بدن کی عسرت میں


یہ کچھ آسان تو نہیں ہے کہ ہم

روٹھتے اب بھی ہیں مروت میں


وہ جو تعمیر ہونے والی تھی

لگ گئی آگ اس عمارت میں


زندگی کس طرح بسر ہوگی

دل نہیں لگ رہا محبت میں


حاصل کن ہے یہ جہان خراب

یہی ممکن تھا اتنی عجلت میں


پھر بنایا خدا نے آدم کو

اپنی صورت پہ ایسی صورت میں


اور پھر آدمی نے غور کیا

چھپکلی کی لطیف صنعت میں


اے خدا جو کہیں نہیں موجود

کیا لکھا ہے ہماری قسمت میں



www.000webhost.com