Jaun Elia

جون ایلیا

سر صحرا حباب بیچے ہیں

لب دریا سراب بیچے ہیں


اور تو کیا تھا بیچنے کے لئے

اپنی آنکھوں کے خواب بیچے ہیں


خود سوال ان لبوں سے کر کے میاں

خود ہی ان کے جواب بیچے ہیں


زلف کوچوں میں شانہ کش نے ترے

کتنے ہی پیچ و تاب بیچے ہیں


شہر میں ہم خراب حالوں نے

حال اپنے خراب بیچے ہیں


جان من تیری بے نقابی نے

آج کتنے نقاب بیچے ہیں


میری فریاد نے سکوت کے ساتھ

اپنے لب کے عذاب بیچے ہیں



www.000webhost.com