Jaun Elia

جون ایلیا

سمجھ میں زندگی آئے کہاں سے

پڑھی ہے یہ عبارت درمیاں سے


یہاں جو ہے تنفس ہی میں گم ہے

پرندے اڑ رہے ہیں شاخ جاں سے


مکان و لا مکاں کے بیچ کیا ہے

جدا جس سے مکاں ہے لا مکاں سے


دریچہ باز ہے یادوں کا اور میں

ہوا سنتا ہوں میں پیڑوں کی زباں سے


تھا اب تک معرکہ باہر کا درپیش

ابھی تو گھر بھی جانا ہے یہاں سے


زمانہ تھا وہ دل کی زندگی کا

تری فرقت کے دن لاؤں کہاں سے


فلاں سے تھی غزل بہتر فلاں کی

فلاں کے زخم اچھے تھے فلاں کے



www.000webhost.com