Jaun Elia

جون ایلیا

روٹھا تھا تجھ سے یعنی خود اپنی خوشی سے میں

پھر اس کے بعد جان نہ روٹھا کسی سے میں


بانہوں سے میری وہ ابھی رخصت نہیں ہوا

پر گم ہوں انتظار میں اس کے ابھی سے میں


دم بھر تری ہوس سے نہیں ہے مجھے قرار

ہلکان ہو گیا ہوں تری دل کشی سے میں


اس طور سے ہوا تھا جدا اپنی جان سے

جیسے بھلا سکوں گا اسے آج ہی سے میں


اے طراحدار عشوہ طراز دیار ناز

رخصت ہوا ہوں تیرے لیے دل گلی سے میں


تو ہی حریم جلوہ ہے ہنگام رنگ ہے

جاناں بہت اداس ہوں اپنی کمی سے میں


کچھ تو حساب چاہئے آئینے سے تجھے

لوں گا ترا حساب مری جاں تجھی سے میں



www.000webhost.com