Jaun Elia

جون ایلیا

روح پیاسی کہاں سے آتی ہے

یہ اداسی کہاں سے آتی ہے


ہے وہ یک سر سپردگی تو بھلا

بد حواسی کہاں سے آتی ہے


وہ ہم آغوش ہے تو پھر دل میں

نا شناسی کہاں سے آتی ہے


ایک زندان بے دلی اور شام

یہ صبا سی کہاں سے آتی ہے


تو ہے پہلو میں پھر تری خوشبو

ہو کے باسی کہاں سے آتی ہے


دل ہے شب سوختہ سوائے امید

تو ندا سی کہاں سے آتی ہے


میں ہوں تجھ میں اور آس ہوں تیری

تو نراسی کہاں سے آتی ہے



www.000webhost.com