Jaun Elia

جون ایلیا

رنج ہے حالت سفر حال قیام رنج ہے

صبح بہ صبح رنج ہے شام بہ شام رنج ہے


اس کی شمیم زلف کا کیسے ہو شکریہ ادا

جب کہ شمیم رنج ہے جب کہ مشام رنج ہے


صید تو کیا کہ صید کار خود بھی نہیں یہ جانتا

دانہ بھی رنج ہے یہاں یعنی کہ دام رنج ہے


معنئ جاودان جاں کچھ بھی نہیں مگر زیاں

سارے کلیم ہیں زبوں سارا کلام رنج ہے


بابا الف مری نمود رنج ہے آپ کے بقول

کیا مرا نام بھی ہے رنج ہاں ترا نام رنج ہے


کاسہ گداگری کا ہے ناف پیالہ یار کا

بھوک ہے وہ بدن تمام وصل تمام رنج ہے


جیت کے کوئی آئے تب ہار کے کوئی آئے تب

جوہر تیغ شرم ہے اور نیام رنج ہے


دل نے پڑھا سبق تمام بود تو ہے قلق تمام

ہاں مرا نام رنج ہے ہاں ترا نام رنج ہے


پیک قضا ہے دم بہ دم جونؔ قدم قدم شمار

لغزش گام رنج ہے حسن خرام رنج ہے


بابا الف نے شب کہا نشہ بہ نشہ کر گلے

جرعہ بہ جرعہ رنج ہے جام بہ جام رنج ہے


آن پہ ہو مدار کیا بود کے روزگار کا

دم ہمہ دم ہے دوں یہ دم وہم دوام رنج ہے


رزم ہے خون کا حذر کوئی بہائے یا بہے

رستم و زال ہیں ملال یعنی کہ سام رنج ہے



www.000webhost.com