Jaun Elia

جون ایلیا

نشۂ شوق رنگ میں تجھ سے جدائی کی گئی

ایک لکیر خون کی بیچ میں کھینچ دی گئی


تھی جو کبھی سر سخن میری وہ خامشی گئی

ہائے کہن‌ سنن کی بات ہائے وہ بات ہی گئی


شوق کی ایک عمر میں کیسے بدل سکے گا دل

نبض جنون ہی تو تھی شہر میں ڈوبتی گئی


اس کی گلی سے اٹھ کے میں آن پڑا تھا اپنے گھر

ایک گلی کی بات تھی اور گلی گلی گئی


اس کی امید ناز کا مجھ سے یہ مان تھا کہ آپ

عمر گزار دیجیے عمر گزار دی گئی


دور بہ دور دل بہ دل درد بہ درد دم بہ دم

تیرے یہاں رعایت حال نہیں رکھی گئی


جونؔ جنوب زرد کے خاک بسر یہ دکھ اٹھا

موج شمال سبز جاں آئی تھی اور چلی گئی


کیا وہ گماں نہیں رہا ہاں وہ گماں نہیں رہا

کیا وہ امید بھی گئی ہاں وہ امید بھی گئی



www.000webhost.com