Jaun Elia

جون ایلیا

نہیں نباہی خوشی سے غمی کو چھوڑ دیا

تمہارے بعد بھی میں نے کئی کو چھوڑ دیا


ہوں جو بھی جان کی جاں وہ گمان ہوتے ہیں

سبھی تھے جان کی جاں اور سبھی کو چھوڑ دیا


شعور ایک شعور فریب ہے سو تو ہے

غرض کہ آگہی نا آگہی کو چھوڑ دیا


خیال و خواب کی اندیشگی کے سکھ جھیلے

خیال و خواب کی اندیشگی کو چھوڑ دیا



www.000webhost.com