Jaun Elia

جون ایلیا

نہ تو دل کا نہ جاں کا دفتر ہے

زندگی اک زیاں کا دفتر ہے


پڑھ رہا ہوں میں کاغذات وجود

اور نہیں اور ہاں کا دفتر ہے


کوئی سوچے تو سوز کرب جاں

سارا دفتر گماں کا دفتر ہے


ہم میں سے کوئی تو کرے اصرار

کہ زمیں آسماں کا دفتر ہے


ہجر تعطیل جسم و جاں ہے میاں

وصل جسم اور جاں کا دفتر ہے


وہ جو دفتر ہے آسمانی تر

وہ میاں جی یہاں کا دفتر ہے


ہے جو بود و نبود کا دفتر

آخرش یہ کہاں کا دفتر ہے


جو حقیقت ہے دم بہ دم کی یاد

وہ تو اک داستاں کا دفتر ہے


ہو رہا ہے گزشتگاں کا حساب

اور آئندگاں کا دفتر ہے



www.000webhost.com