Jaun Elia

جون ایلیا

نہ پوچھ اس کی جو اپنے اندر چھپا

غنیمت کہ میں اپنے باہر چھپا


مجھے یاں کسی پہ بھروسا نہیں

میں اپنی نگاہوں سے چھپ کر چھپا


پہنچ مخبروں کی سخن تک کہاں

سو میں اپنے ہونٹوں پہ اکثر چھپا


مری سن نہ رکھ اپنے پہلو میں دل

اسے تو کسی اور کے گھر چھپا


یہاں تیرے اندر نہیں میری خیر

مری جاں مجھے میرے اندر چھپا


خیالوں کی آمد میں یہ خارزار

ہے تیروں کی یلغار تو سر چھپا



www.000webhost.com