Jaun Elia

جون ایلیا

نہ ہوا نصیب قرار جاں ہوس قرار بھی اب نہیں

ترا انتظار بہت کیا ترا انتظار بھی اب نہیں


تجھے کیا خبر مہ و سال نے ہمیں کیسے زخم دیے یہاں

تری یادگار تھی اک خلش تری یادگار بھی اب نہیں


نہ گلے رہے نہ گماں رہے نہ گزارشیں ہیں نہ گفتگو

وہ نشاط وعدۂ وصل کیا ہمیں اعتبار بھی اب نہیں


رہے نام رشتۂ رفتگاں نہ شکایتیں ہیں نہ شوخیاں

کوئی عذر خواہ تو اب کہاں کوئی عذر دار بھی اب نہیں


کسے نذر دیں دل و جاں بہم کہ نہیں وہ کاکل خم بہ خم

کسے ہر نفس کا حساب دیں کہ شمیم یار بھی اب نہیں


وہ ہجوم دل زدگاں کہ تھا تجھے مژدہ ہو کہ بکھر گیا

ترے آستانے کی خیر ہو سر رہ غبار بھی اب نہیں


وہ جو اپنی جاں سے گزر گئے انہیں کیا خبر ہے کہ شہر میں

کسی جاں نثار کا ذکر کیا کوئی سوگوار بھی اب نہیں


نہیں اب تو اہل جنوں میں بھی وہ جو شوق شہر میں عام تھا

وہ جو رنگ تھا کبھی کو بہ کو سر کوئے یار بھی اب نہیں



www.000webhost.com