Jaun Elia

جون ایلیا

نہ ہم رہے نہ وہ خوابوں کی زندگی ہی رہی

گماں گماں سی مہک خود کو ڈھونڈھتی ہی رہی


عجب طرح رخ آئندگی کا رنگ اڑا

دیار ذات میں از خود گذشتگی ہی رہی


حریم شوق کا عالم بتائیں کیا تم کو

حریم شوق میں بس شوق کی کمی ہی رہی


پس نگاہ تغافل تھی اک نگاہ کہ تھی

جو دل کے چہرۂ حسرت کی تازگی ہی رہی


عجیب آئینۂ پرتو تمنا تھا

تھی اس میں ایک اداسی کہ جو سجی ہی رہی


بدل گیا سبھی کچھ اس دیار بودش میں

گلی تھی جو تری جاں وہ تری گلی ہی رہی


تمام دل کے محلے اجڑ چکے تھے مگر

بہت دنوں تو ہنسی ہی رہی خوشی ہی رہی


وہ داستان تمہیں اب بھی یاد ہے کہ نہیں

جو خون تھوکنے والوں کی بے حسی ہی رہی


سناؤں میں کسے افسانۂ خیال ملال

تری کمی ہی رہی اور مری کمی ہی رہی



www.000webhost.com