Jaun Elia

جون ایلیا

مجھ کو تو گر کے مرنا ہے

باقی کو کیا کرنا ہے


شہر ہے چہروں کی تمثیل

سب کا رنگ اترنا ہے


وقت ہے وہ ناٹک جس میں

سب کو ڈرا کر ڈرنا ہے


میرے نقش ثانی کو

مجھ میں ہی سے ابھرنا ہے


کیسی تلافی کیا تدبیر

کرنا ہے اور بھرنا ہے


جو نہیں گزرا ہے اب تک

وہ لمحہ تو گزرنا ہے


اپنے گماں کا رنگ تھا میں

اب یہ رنگ بکھرنا ہے


ہم دو پائے ہیں سو ہمیں

میز پہ جا کر چرنا ہے


چاہے ہم کچھ بھی کر لیں

ہم ایسوں کو سدھرنا ہے


ہم تم ہیں اک لمحہ کے

پھر بھی وعدہ کرنا ہے



www.000webhost.com