Jaun Elia

جون ایلیا

مسند غم پہ جچ رہا ہوں میں

اپنا سینہ کھرچ رہا ہوں میں


اے سگان گرسنۂ ایام

جوں غذا تم کو پچ رہا ہوں میں


اندرون حصار خاموشی

شور کی طرح مچ رہا ہوں میں


وقت کا خون رایگاں ہوں مگر

خشک لمحوں میں رچ رہا ہوں میں


خون میں تر بہ تر رہا مرا نام

ہر زمانے کا سچ رہا ہوں میں


حال یہ ہے کہ اپنی حالت پر

غور کرنے سے بچ رہا ہوں میں



www.000webhost.com