Jaun Elia

جون ایلیا

لازم ہے اپنے آپ کی امداد کچھ کروں

سینے میں وہ خلا ہے کہ ایجاد کچھ کروں


ہر لمحہ اپنے آپ میں پاتا ہوں کچھ کمی

ہر لمحہ اپنے آپ میں ایزاد کچھ کروں


روکار سے تو اپنی میں لگتا ہوں پائیدار

بنیاد رہ گئی پئے بنیاد کچھ کروں


طاری ہوا ہے لمحۂ موجود اس طرح

کچھ بھی نہ یاد آئے اگر یاد کچھ کروں


موسم کا مجھ سے کوئی تقاضا ہے دم بہ دم

بے سلسلہ نہیں نفس باد کچھ کروں



www.000webhost.com