Jaun Elia

جون ایلیا

کوئے جاناں میں اور کیا مانگو

حالت حال یک صدا مانگو


ہر نفس تم یقین منعم سے

رزق اپنے گمان کا مانگو


ہے اگر وہ بہت ہی دل نزدیک

اس سے دوری کا سلسلہ مانگو


در مطلب ہے کیا طلب انگیز

کچھ نہیں واں سو کچھ بھی جا مانگو


گوشہ گیر غبار ذات ہوں میں

مجھ میں ہو کر مرا پتا مانگو


منکران خدائے بخشندہ

اس سے تو اور اک خدا مانگو


اس شکم رقص گر کے سائل ہو

ناف پیالے کی تم عطا مانگو


لاکھ جنجال مانگنے میں ہیں

کچھ نہ مانگو فقط دعا مانگو



www.000webhost.com