Jaun Elia

جون ایلیا

کون سے شوق کس ہوس کا نہیں

دل مری جان تیرے بس کا نہیں


راہ تم کارواں کی لو کہ مجھے

شوق کچھ نغمۂ جرس کا نہیں


ہاں مرا وہ معاملہ ہے کہ اب

کام یاران نکتہ رس کا نہیں


ہم کہاں سے چلے ہیں اور کہاں

کوئی اندازہ پیش و پس کا نہیں


ہو گئی اس گلے میں عمر تمام

پاس شعلے کو خار و خس کا نہیں


مجھ کو خود سے جدا نہ ہونے دو

بات یہ ہے میں اپنے بس کا نہیں


کیا لڑائی بھلا کہ ہم میں سے

کوئی بھی سینکڑوں برس کا نہیں



www.000webhost.com