Jaun Elia

جون ایلیا

کوئی دم بھی میں کب اندر رہا ہوں

لیے ہیں سانس اور باہر رہا ہوں


دھوئیں میں سانس ہیں سانسوں میں پل ہیں

میں روشندان تک بس مر رہا ہوں


فنا ہر دم مجھے گنتی رہی ہے

میں اک دم کا تھا اور دن بھر رہا ہوں


ذرا اک سانس روکا تو لگا یوں

کہ اتنی دیر اپنے گھر رہا ہوں


بجز اپنے میسر ہے مجھے کیا

سو خود سے اپنی جیبیں بھر رہا ہوں


ہمیشہ زخم پہنچے ہیں مجھی کو

ہمیشہ میں پس لشکر رہا ہوں


لٹا دے نیند کے بستر پہ اے رات

میں دن بھر اپنی پلکوں پر رہا ہوں



www.000webhost.com