Jaun Elia

جون ایلیا

کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے

جانے کیسے لوگ وہ ہوں گے جو اس کو بھاتے ہوں گے


شام ہوئے خوش باش یہاں کے میرے پاس آ جاتے ہیں

میرے بجھنے کا نظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے


وہ جو نہ آنے والا ہے نا اس سے مجھ کو مطلب تھا

آنے والوں سے کیا مطلب آتے ہیں آتے ہوں گے


اس کی یاد کی باد صبا میں اور تو کیا ہوتا ہوگا

یوں ہی میرے بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے


یارو کچھ تو ذکر کرو تم اس کی قیامت بانہوں کا

وہ جو سمٹتے ہوں گے ان میں وہ تو مر جاتے ہوں گے


میرا سانس اکھڑتے ہی سب بین کریں گے روئیں گے

یعنی میرے بعد بھی یعنی سانس لیے جاتے ہوں گے



www.000webhost.com