Jaun Elia

جون ایلیا

کیا یہ آفت نہیں عذاب نہیں

دل کی حالت بہت خراب نہیں


بود پل پل کی بے حسابی ہے

کہ محاسب نہیں حساب نہیں


خوب گاؤ بجاؤ اور پیو

ان دنوں شہر میں جناب نہیں


سب بھٹکتے ہیں اپنی گلیوں میں

تا بہ خود کوئی باریاب نہیں


تو ہی میرا سوال ازل سے ہے

اور ساجن ترا جواب نہیں


حفظ ہے شمس بازغہ مجھ کو

پر میسر وہ ماہتاب نہیں


تجھ کو دل درد کا نہیں احساس

سو مری پنڈلیوں کو داب نہیں


نہیں جڑتا خیال کو بھی خیال

خواب میں بھی تو کوئی خواب نہیں


سطر مو اس کی زیر ناف کی ہائے

جس کی چاقو زنوں کو تاب نہیں



www.000webhost.com