Jaun Elia

جون ایلیا

کیا یقیں اور کیا گماں چپ رہ

شام کا وقت ہے میاں چپ رہ


ہو گیا قصۂ وجود تمام

ہے اب آغاز داستاں چپ رہ


میں تو پہلے ہی جا چکا ہوں کہیں

تو بھی جاناں نہیں یہاں چپ رہ


تو اب آیا ہے حال میں اپنے

جب زمیں ہے نہ آسماں چپ رہ


تو جہاں تھا جہاں جہاں تھا کبھی

تو بھی اب تو نہیں وہاں چپ رہ


ذکر چھیڑا خدا کا پھر تو نے

یاں ہے انساں بھی رائیگاں چپ رہ


سارا سودا نکال دے سر سے

اب نہیں کوئی آستاں چپ رہ


اہرمن ہو خدا ہو یا آدم

ہو چکا سب کا امتحاں چپ رہ


درمیانی ہی اب سبھی کچھ ہے

تو نہیں اپنے درمیاں چپ رہ


اب کوئی بات تیری بات نہیں

نہیں تیری تری زباں چپ رہ


ہے یہاں ذکر حال موجوداں

تو ہے اب از گزشتگاں چپ رہ


ہجر کی جاں کنی تمام ہوئی

دل ہوا جونؔ بے اماں چپ رہ



www.000webhost.com