Jaun Elia

جون ایلیا

کیا ہو گیا ہے گیسوئے خم دار کو ترے

آزاد کر رہے ہیں گرفتار کو ترے


اب تو ہے مدتوں سے شب و روز روبرو

کتنے ہی دن گزر گئے دیدار کو ترے


کل رات چوب دار سمیت آ کے لے گیا

اک غول طرحدار سر دار کو ترے


اب اتنی کند ہو گئی دھار اے یقیں تری

اب روکتا نہیں ہے کوئی وار کو ترے


اب رشتۂ مریض و مسیحا ہوا ہے خوار

سب پیشہ ور سمجھتے ہیں بیمار کو ترے


باہر نکل کے آ در و دیوار ذات سے

لے جائے گی ہوا در و دیوار کو ترے


اے رنگ اس میں سود ہے تیرا زیاں نہیں

خوشبو اڑا کے لے گئی زنگار کو ترے



www.000webhost.com