Jaun Elia

جون ایلیا

خود سے رشتے رہے کہاں ان کے

غم تو جانے تھے رائیگاں ان کے


مست ان کو گماں میں رہنے دے

خانہ برباد ہیں گماں ان کے


یار سکھ نیند ہو نصیب ان کو

دکھ یہ ہے دکھ ہیں بے اماں ان کے


کتنی سرسبز تھی زمیں ان کی

کتنے نیلے تھے آسماں ان کے


نوحہ خوانی ہے کیا ضرور انہیں

ان کے نغمے ہیں نوحہ خواں ان کے



www.000webhost.com