Jaun Elia

جون ایلیا

خود میں ہی گزر کے تھک گیا ہوں

میں کام نہ کر کے تھک گیا ہوں


اوپر سے اتر کے تازہ دم تھا

نیچے سے اتر کے تھک گیا ہوں


اب تم بھی تو جی کے تھک رہے ہو

اب میں بھی تو مر کے تھک گیا ہوں


میں یعنی ازل کا آرمیدہ

لمحوں میں بکھر کے تھک گیا ہوں


اب جان کا میری جسم شل ہے

میں خود سے ہی ڈر کے تھک گیا ہوں



www.000webhost.com