Jaun Elia

جون ایلیا

خون تھوکے گی زندگی کب تک

یاد آئے گی اب تری کب تک


جانے والوں سے پوچھنا یہ صبا

رہے آباد دل گلی کب تک


ہو کبھی تو شراب وصل نصیب

پیے جاؤں میں خون ہی کب تک


دل نے جو عمر بھر کمائی ہے

وہ دکھن دل سے جائے گی کب تک


جس میں تھا سوز آرزو اس کا

شب غم وہ ہوا چلی کب تک


بنی آدم کی زندگی ہے عذاب

یہ خدا کو رلائے گی کب تک


حادثہ زندگی ہے آدم کی

ساتھ دے گی بھلا خوشی کب تک


ہے جہنم جو یاد اب اس کی

وہ بہشت وجود تھی کب تک


وہ صبا اس کے بن جو آئی تھی

وہ اسے پوچھتی رہی کب تک


میرؔ جونی ذرا بتائیں تو

خود میں ٹھہریں گے آپ ہی کب تک


حال صحن وجود ٹھہرے گا

تیرا ہنگام رخصتی کب تک



www.000webhost.com