Jaun Elia

جون ایلیا

کبھی کبھی تو بہت یاد آنے لگتے ہو

کہ روٹھتے ہو کبھی اور منانے لگتے ہو


گلا تو یہ ہے تم آتے نہیں کبھی لیکن

جب آتے بھی ہو تو فوراً ہی جانے لگتے ہو


یہ بات جونؔ تمہاری مذاق ہے کہ نہیں

کہ جو بھی ہو اسے تم آزمانے لگتے ہو


تمہاری شاعری کیا ہے برا بھلا کیا ہے

تم اپنے دل کی اداسی کو گانے لگتے ہو


سرود آتش زرین صحن خاموشی

وہ داغ ہے جسے ہر شب جلانے لگتے ہو


سنا ہے کاہکشانوں میں روز و شب ہی نہیں

تو پھر تم اپنی زباں کیوں جلانے لگتے ہو



www.000webhost.com