Jaun Elia

جون ایلیا

کبھی جب مدتوں کے بعد اس کا سامنا ہوگا

سوائے پاس آداب تکلف اور کیا ہوگا


یہاں وہ کون ہے جو انتخاب غم پہ قادر ہو

جو مل جائے وہی غم دوستوں کا مدعا ہوگا


نوید سر خوشی جب آئے گی اس وقت تک شاید

ہمیں زہر غم ہستی گوارا ہو چکا ہوگا


صلیب وقت پر میں نے پکارا تھا محبت کو

مری آواز جس نے بھی سنی ہوگی ہنسا ہوگا


ابھی اک شور‌ ہائے و ہو سنا ہے ساربانوں نے

وہ پاگل قافلے کی ضد میں پیچھے رہ گیا ہوگا


ہمارے شوق کے آسودہ و خوش حال ہونے تک

تمہارے عارض و گیسو کا سودا ہو چکا ہوگا


نوائیں نکہتیں آسودہ چہرے دل نشیں رشتے

مگر اک شخص اس ماحول میں کیا سوچتا ہوگا


ہنسی آتی ہے مجھ کو مصلحت کے ان تقاضوں پر

کہ اب اک اجنبی بن کر اسے پہچاننا ہوگا


دلیلوں سے دوا کا کام لینا سخت مشکل ہے

مگر اس غم کی خاطر یہ ہنر بھی سیکھنا ہوگا


وہ منکر ہے تو پھر شاید ہر اک مکتوب شوق اس نے

سر انگشت حنائی سے خلاؤں میں لکھا ہوگا


ہے نصف شب وہ دیوانہ ابھی تک گھر نہیں آیا

کسی سے چاندنی راتوں کا قصہ چھڑ گیا ہوگا


صبا شکوا ہے مجھ کو ان دریچوں سے دریچوں سے

دریچوں میں تو دیمک کے سوا اب اور کیا ہوگا



www.000webhost.com