Jaun Elia

جون ایلیا

کسی سے کوئی خفا بھی نہیں رہا اب تو

گلا کرو کہ گلا بھی نہیں رہا اب تو


وہ کاہشیں ہیں کہ عیش جنوں تو کیا یعنی

غرور ذہن رسا بھی نہیں رہا اب تو


شکست ذات کا اقرار اور کیا ہوگا

کہ ادعائے وفا بھی نہیں رہا اب تو


چنے ہوئے ہیں لبوں پر ترے ہزار جواب

شکایتوں کا مزہ بھی نہیں رہا اب تو


ہوں مبتلائے یقیں میری مشکلیں مت پوچھ

گمان عقدہ کشا بھی نہیں رہا اب تو


مرے وجود کا اب کیا سوال ہے یعنی

میں اپنے حق میں برا بھی نہیں رہا اب تو


یہی عطیۂ صبح شب وصال ہے کیا

کہ سحر ناز و ادا بھی نہیں رہا اب تو


یقین کر جو تری آرزو میں تھا پہلے

وہ لطف تیرے سوا بھی نہیں رہا اب تو


وہ سکھ وہاں کہ خدا کی ہیں بخششیں کیا کیا

یہاں یہ دکھ کہ خدا بھی نہیں رہا اب تو



www.000webhost.com