Jaun Elia

جون ایلیا

کام کی بات میں نے کی ہی نہیں

یہ مرا طور زندگی ہی نہیں


اے امید اے امید نو میداں

مجھ سے میت تری اٹھی ہی نہیں


میں جو تھا اس گلی کا مست خرام

اس گلی میں مری چلی ہی نہیں


یہ سنا ہے کہ میرے کوچ کے بعد

اس کی خوشبو کہیں بسی ہی نہیں


تھی جو اک فاختہ اداس اداس

صبح وہ شاخ سے اڑی ہی نہیں


مجھ میں اب میرا جی نہیں لگتا

اور ستم یہ کہ میرا جی ہی نہیں


وہ جو رہتی تھی دل محلے میں

پھر وہ لڑکی مجھے ملی ہی نہیں


جائیے اور خاک اڑائیے آپ

اب وہ گھر کیا کہ وہ گلی ہی نہیں


ہائے وہ شوق جو نہیں تھا کبھی

ہائے وہ زندگی جو تھی ہی نہیں



www.000webhost.com